کوہاٹ سے 90اشتہاریوں سمیت 431جرائم پیشہ عناصر گرفتار **||****||**کوہاٹ میں خاتون سمیت تین افراد جاں بحق **||**جی پی او کوہاٹ ڈیلی ویجز ملازمین عدالتی احکامات کے باوجود تنخواہوں اورالاؤنسز سے محروم **||**سرکاری ادارے عوام کے ہاتھ میں**||**
اسپيشل رپورٹس وتجزيے
 
 
 
 
انٹرويوز
 
 
 
کالم اور کالم نگار  
منیٰ سے کربلا تک
فضل محمود عینؔ

بیس روپے فیس والا ڈاکٹر۔۔۔!
حامد نور، کوہاٹیات

 
جناب محترم فطرت قریشی کی زندگی کے کچھ واقعات جب وہ خاکسار تحریک کا حصہ تھے
9 January 2016, 12:42 am PST
کتاب کا نام : جہانِ فطرت
جناب محترم فطرت قریشی کی زندگی کے کچھ واقعات جب وہ خاکسار تحریک کا حصہ تھے
علامہ مشرقی نے 1947ء میں اعلان کیا کہ جون 1947ء تک تین لاکھ خاکسار دہلی میں جمع ہو جائیں تو میں ہندو ستان کی آزادی کیلئے اگلا پروگرام مرتب کروں گا اور یہ بتاؤں گا کہ خاکساروں نے کیا قدم اُٹھا نا ہے اور اگر تین لاکھ خاکسار جمع نہ ہوئے تو میں خاکسار تحریک کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کر دوں گا۔ چنانچہ ہندوستان بھر سے خاکسار دہلی پہنچنا شروع ہو گئے۔ ہندو مسلم فسادات کی ابتداء نواکھالی سے شروع ہو گئی تھی اور سارا ہی ہندوستان تعصب اور نفرت کی آگ میں دھیرے دھیرے جلنے لگا تھا۔ دہلی کا موسم بڑا گرم ہوتا تھاتاہم گرمی سردی کی پروا ہ نہ کرتے ہوئے میں بھی دہلی پہنچا۔ علامہ صاحب نے کئی ایک خاکساروں کو ’’سالار انقلاب ‘‘ مقرر کیا اور اس سلسلے میں میرا تقرر بھی ہوا۔ ہم دہلی میں ڈیڑھ ماہ تک مقیم رہے۔ تین لاکھ خاکسار جمع نہ ہو سکے۔ انداز اً دو لاکھ کے قریب خاکسار دہلی پہنچ گئے تھے مگر علامہ صاحب کا کہنا تھا کہ پورے تین لاکھ جمع نہ ہوں گے تو میں تحریک کو باقی رہنے نہیں دوں گا۔ اور پھر ایسا ہی ہوا کہ علامہ صاحب نے تحریک کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ اس اعلان سے بہت سے خاکسار ہوش و حواس کھو نے لگے اور وہ کسی قیمت پر دہلی سے واپس جانا نہیں چاہتے تھے۔ بہت سے دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ حکومت کی سی آئی ڈی ہر جگہ پھیلی ہوئی تھے۔ خاکساروں نے تمام مساجد میں پڑاؤ کیا۔ دہلی کی تمام مسجدیں خاکساروں سے بھر گئی تھیں ۔ رات کو ہر مسجد میں صبح تک ڈیوٹیاں دیتے تھے۔ یعنی باری باری ہر خاکسار دو دو گھنٹے رات کو ڈیوٹی دیتا۔ یہ اس لئے تھا کہ کوئی خاکساروں کو نقصان نہ پہنچا سکے ۔ خاکساروں کی تنظیم نہایت ہی بے مچل تھے۔ بہت سے خاکسارواپس جانے لگے جبکہ بہت سے جانے کیلئے تیار نہ تھے۔ جو خاکسار اگست تک دہلی میں مقیم رہے، ان میں ، میں بھی تھا۔ میری ڈیوٹی روزانہ فتح پوری مسجد دہلی میں رات کو لگتی تھی۔
ایک روز رات کے دو بجے تا چار بجے میری ڈیوٹی لگی ۔ نیند کا غلبہ بڑا سخت تھا۔ میں ساڑھے تین بجے رات کو مسجد میں سو گیا۔ صبح کی اذان کیلئے تھوڑا ہی وقت باقی تھا کہ خواب دیکھ رہا ہوں ۔ ایک سفید ریش بزرگ جو بڑے جاہ و جلال کو چہرے پر سجا ئے بیٹھا تھا۔ چہرے سے نور ٹپکتا رہا۔ مجھ سے آکر کہنے لگا۔ ’’ بیٹا ! فوراً دہلی سے چلے جاؤ ، یہاں رہنا اب مناسب نہیں ‘‘۔ میں نے صبح کیمبل پور (اٹک) کے ایک سالار جناب میر حضرت شاہ ایڈووکیٹ جو ہمارا افسر بھی تھا اور دوست بھی ، بڑا ذہین و فطین پڑھا لکھا مدبر شخص تھا، اسے اپنا خواب بیان کیا:
فرمانے لگے ’’فطرت صاحب! خواب میں جو بزرگ تم نے دیکھا ہے ، یہ فرشتہ ہے۔ اس خواب کو معمولی نہ سمجھو اور صبح کو چ کرو۔ صورت حال دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے کہیں بے نشان موت نہ مارے جاؤ کیونکہ فسادات کی لہریں تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی ہیں۔ ‘‘
میرا حقیقی چچا تھا قاضی نور بادشاہ ، وہ بھی میرے ساتھ تھا۔ اسے پتہ چلا تو وہ کہنے لگا تم اگر جانا چاہتے ہو تو چلے جاؤ ، میں تو نہیں جاؤں گا۔ ‘‘ چنانچہ وہ دہلی میں ہی رک گیا ۔
میں اور میر حضرت شاہ اور کچھ پنجاب اور کیمبل پور کے خاکسار رات کی ٹرین پر بیٹھے اور صبح لاہور پہنچ گئے۔ لاہور پہنچ کر شاہ عالمی گیٹ کی طرف گئے۔ دیکھا تو تقریباً سارا علاقہ جلا ہوا تھا۔ یہاں ہندوؤں کی آبادی زیادہ تھی۔ مسلمانوں نے ان کی عمارتوں کو آگ لگائی اور وہ بھاگ گئے۔ لاہور میں چند گھنٹے قیام کر کے ، میں کوہاٹ روانہ ہوا۔ اس دور میں ٹرانسپورٹ وغیرہ کا سلسلہ تو کوہاٹ تک نہ تھا صرف پسنجر ٹرین کے ذریعے ہی آمدو رفت ہوتی تھی۔ لاہور سے کوہاٹ کیلئے صرف آٹھ روپے کا ٹکٹ تھا۔ دوسرے روز صبح دس بجے میں کوہاٹ پہنچ گیا۔ گاڑی لیٹ تھی ورنہ یہ صبح سویرے ہی پہنچ جایا کرتی تھی۔ جب میں گھر روانہ ہوا توقلعہ کوہاٹ پر نظر پڑی۔ یہاں بہت بڑا ہجوم تھا۔ بنوری پنساری کوہاٹ کے سر پرست جناب حاجی پیر سعید شاہ بنوری جو کوہاٹ ڈسٹرکٹ مسلم لیگ کے صدر تھے، قلعہ پر یونین جیک کا پرچم اتار کر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرا رہے تھے۔ یہ 14اگست 1947ء کی تاریخ تھی۔ میں 12اگست کی رات کو دہلی سے چلا تھا اور ٹھیک 14اگست کی صبح کوہاٹ پہنچا۔ 15اگست کی صبح کو جب اخبارات دیکھنے لگا تو معلوم ہوا کہ سکھوں نے پٹیالہ سے لے کر امر تسر تک ہزاروں مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا۔ ہر ٹرین میں قتل عام ہوا اور مسلمانوں کو بے دریغ شہید کیا گیا۔ اس میں بوڑھے ، جوان ، عورت ، مرد بچے کی کوئی تمیز نہیں کی گئی تھی۔ جو بھی نظر آیا، اسے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اور میں سوچنے لگا کہ واقعی کسی نے سچ کہا ہے کہ مارنے والے سے زندہ رکھنے والا زیادہ مہربان ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے میری زندگی ابھی دراز رکھنی تھی تو مجھے خواب میں بشارت دی کہ فوراً دہلی سے چلے جاؤ۔ اس طرح نہ صرف میں موت کے پنجے سے نکل آیا بلکہ اپنے ساتھ کئی دیگر خاکساروں کو بھی کھینچ لایا۔ کچھ ہی عرصہ گزرا کہ پشاور کا ایک خاکسار دہلی سے واپس آیا اور اس نے بتایا کہ دہلی میں جو خاکسار باقی رہ گئے تھے، بھارتی حکومت نے انہیں گرفتار کر لیا۔ وہ جیل میں چھ ماہ ہی رہے ہوں گے کہ جیل کی کیفیت گاندھی جی دیکھنے آئے۔ گاندھی کی آمد کا سن کر دہلی سنٹرل جیل کے سیاسی قیدیوں نے ہڑتال کر دی۔ اس پر جیل کے حکام نے پولیس طلب کی۔ پولیس نے گولی چلائی، جس میں بہت سے خاکسار شہید ہوئے جس میں میرے چچا قاضی نور بادشاہ بھی شامل تھے۔ ان سب کو قیدیوں کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ پاکستان بننے سے قبل میں کوئی مستقل کام نہیں کرتا تھاکیونکہ مجھے علامہ مشرقی ہر محاذ پر طلب کرتے تھے۔ پھر مجھ پر کوئی ذمہ داری بھی نہ تھی۔ بالکل آزاد منش تھا۔ جہاں روٹی مل گئی ، کھالی اور جہاں نیند آگئی ، سو گیا۔ مگر اب جبکہ خاکسار تحریک ختم کر دی گئی تو مجھے خیال آیا کہ اب مجھے کچھ نہ کچھ کر نا چاہیئے۔
اتفاق ایسا ہوا کہ پشاور سے ملک نور الٰہی نے ’’شہباز ‘‘ اخبار جاری کیا۔ جس کیلئے کئی لوگوں نے ایجنسی کی درخواست دی۔ میں نے بھی اخبار کے منیجر کے ساتھ خط و کتابت کی۔ چنانچہ قرعہ فال میرے نام نکل آیا۔ یہ اخبار لاہور کے اخباروں سے ایک دن پہلے تازہ خبریں چھاپتا تھا جس کی وجہ سے روز بہ روز اس کی اشاعت میں توسیع ہوتی رہی۔ صبح دس بجے تک میں اخبار تقسیم کرتا اور باقی سارا دن آوارہ گرد بن کر پھرتا رہتا۔ کچھ دنوں کے بعد شاہ فیصل گیٹ کے اندر ایک دکان 15روپے ماہوار کرایہ پر حاصل کی جو آج بھی میرے قبضے میں ہے۔ یہ دکان کوہاٹ میو نسپل کمیٹی کی ملکیت ہے اور آج کل اس کا کرایہ چالیس گنا بڑھا دیا گیاہے۔
شروع شروع میں اخبار ، رسائل اور چھوٹی چھوٹی کتابوں کا کاروبار کر تا رہا۔ بعد میں جنرل مرچنٹس کا کام شروع کر دیا کچھ عرصہ وہ چلتا رہا۔ جب نفع بخش ثابت نہ ہوا تو سوٹ کیس ، بیگ وغیرہ کا کام شروع کر دیا۔ دس بارہ سال سے اس میں پلاسٹک اور ریگزین بیچتا رہا۔ اتنے پاپڑ بیل کر بھی میں کوئی اثاثہ نہ بنا سکا۔ بس ’’تلی میں آیا اور گلی میں کھایا‘‘ والا معاملہ ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ میرا دماغ تاجرانہ نہیں بلکہ سیاسی ہے مجھے دکان داروں کی طرح نہ تو جھوٹ کہنا آتا ہے اور نہ گاہک کو فریب دینا۔ کوشش ہوتی ہے کہ گاہک ایک بات سمجھ جائے۔ اگر نہیں سمجھتا تو میں زیادہ پروا نہیں کرتا اور اسے اپنی مرضی پر چھوڑ دیتا ہوں۔ بہت سے لوگوں کو مجھ سے شکایت ہے کہ میں بے حد جذباتی ہوں اور ذرا سی بات پر غصہ میں آ جاتاہوں جس کی وجہ سے کامیاب بزنس مین ثابت نہیں ہو سکتا۔ اس بارے میں گزارش ہے کہ لوگوں کی یہ شکایت درست اور بجا ہے مگر میں مجبور ہوں ۔ اگر چہ غصہ کرنے کے بعد مجھے سخت پشیمانی ہوتی ہے لیکن یہ میرے بس کی بات نہیں کہ میں اپنے غصے پر کنٹرول کر سکوں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بچپن سے میں مار کھاتا چلا آیا ہوں۔ چار بار ٹائی فائیڈ کا شکار ہوا اور کم سے کم تیس سال تک مرگی کا مریض رہا ہوں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مجھ پر خاص مہر بانی ہے کہ میں آج تک کسی بڑے حادثے کا شکار نہیں ہوا۔ میں نے زندگی میں کئی بار ایسی غلطیاں کیں کہ جن کی پاداش میں مجھے مر جانا چاہیئے تھا مگر معلوم ایسا ہوتا ہے کہ قدرت ابھی مجھ سے کام لینا چاہتی ہے۔ میں اپنی زندگی پر غور کرتا ہوں تو کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے کہ میں ابھی تک زندہ کیسے ہوں۔ جتنے مصائب میں نے جھیلے ہیں، کوئی اور ہوتا تو کب کا مر کھپ گیا ہوتا۔ مگر قدرت کے کام نرالے ہیں کسی کو یہ پتہ نہیں کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔ یہ سرگز شت میں نے تسلسل سے نہیں لکھا بلکہ حافظے کے زور پر جو قلم پر آیا لکھ دیا۔ لہٰذا قارئین کرام سے ملتجی ہوں کہ وہ اس غیر ترتیب شدہ داستان حیات کو اسی نظر سے دیکھیں۔

 
Share on Facebook
812 
 
مزید خبریں
پاکستان کی خوشحالی کے لیے بلاتفریق احتساب ضروری ہے، آرمی چیف *
عمر کے قوانین رائج کیئے جائیں تو پاکستان امن کا گہوارہ بن جائیگا *
کوہاٹ تحصیل کونسل نے 32کروڑ 66لاکھ کا غیر ترقیاتی بجٹ منظور کر لیا *
کوہاٹ کی بہت سی شخصیات جلد تحریک انصاف میں نظر آئیں گی، ملک اقبال *
وزیرِ اعلیٰ پرویزخٹک کو دورہ شکردرہ، کئی نئے منصوبوں کی منظوری *
لوکل گورنمنٹ کا مقصد عوام کو نچلی سطح پر با اختیار بنانا ہے،کمشنر کوہاٹ *
ری سئیکلنگ پلانٹ ہر صورت میں وقت پر بنے گا ،MPAضیاء بنگش *
اساتذہ ، والدین اور ایجوکیشن آفیسرز فرائض میں غفلت نہ برتیں، ضلع ناظم *
بھوت ملازمین کے لئے ٹی ایم اے میں کوئی جگہ نہیں،چیف میونسپل آفیسر *
 
Kohat
Online

All Copy Rights Reserved by
www.kohatonline.com
Email: kohatonline@gmail.com

درہ آدم خیل کی خبریں لاچی کی خبریں کرک کی خبریں ہنگو کی خبریں تازہ ترين خبريں
سائنس و ٹیکنالوجی صحت کی خبریں کوہاٹ کی تاریخ تصویری خبریں کوہاٹ کی خبریں
تعلیم کی خبریں کھیلوں کی خبریں سینی گمبٹ کی خبریں کوہاٹی شاعر اور شاعری بیرون ملک سے خبریں