کوہاٹ سے 90اشتہاریوں سمیت 431جرائم پیشہ عناصر گرفتار **||****||**کوہاٹ میں خاتون سمیت تین افراد جاں بحق **||**جی پی او کوہاٹ ڈیلی ویجز ملازمین عدالتی احکامات کے باوجود تنخواہوں اورالاؤنسز سے محروم **||**سرکاری ادارے عوام کے ہاتھ میں**||**
اسپيشل رپورٹس وتجزيے
 
 
 
 
انٹرويوز
 
 
 
کالم اور کالم نگار  
منیٰ سے کربلا تک
فضل محمود عینؔ

بیس روپے فیس والا ڈاکٹر۔۔۔!
حامد نور، کوہاٹیات

 
بلدیاتی حکومت عوامی ہے یا انتقامی؟
18 September 2015, 10:24 pm PST
کوہاٹ(ویوزآن نیوز ) لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء کے تحت ہونے والے حالیہ انتخابات کے بعد کوہاٹ میں بھی نئی ضلعی و تحصیل کونسلیں وجود میں آ چکی ہیں گذشتہ روز ضلع کونسل ہال میں نو منتخب ممبران ضلع و تحصیل کونسل کے تعارفی اجلاس میں مہمان خصوصی نئے کمشنر کوہاٹ ڈویژن مسرت حسین،نئے ڈپٹی کمشنر ظاہر شاہ مہمند نے خطاب کیا اجلاس میں نئے ٹی ایم او جاوید امجد سمیت مختلف محکموں کے سربراہان بھی موجود تھے نئے نظام کے تحت نئے ناظمین اور نئی ضلعی انتظامیہ کی موجو دگی میں کوہاٹ کے عوام کو امید تھی کہ شاید اب نیا پختونخوا اور نیا کوہاٹ بھی دیکھنے کو ملے گا مگر حاضرین کو ہال میں ایک چیز نئی دیکھنے کو ملی کہ پاور گیم کے معروف کھلاڑیوں کے چہیتے سیٹھ جوہر سیف اللہ اور بابری بانڈہ کے بابر عظیم نامی ناظمین موجود نہیں تھے نہ ان کے سر پرست مہمان اداکار کے طور پر موجود تھے جسکو بہت سے حاضرین نے شدت سے محسوس کیا کیونکہ انہیں دو بڑوں کی اناؤں اور ذاتی مفادات کی وجہ سے ایک نیا چہرہ مولانا نیاز کی صورت میں سامنے آیا یہ تو اللہ پاک کا کرم ہوا کہ نئے ضلع ناظم پر ابھی مروجہ سیاسی گندگی کا اثر نہیں ہے اور فی الحال وہ’’کلین مین‘‘ہیں مگر سیاسی بازیگروں میں گھرے ہوئے ہیں اس اجلاس میں اور اسکے بعد بھی سب سے دلچسپ سوال یہ تھا کہ ایسی مخلوط ضلع کونسل کا نظام چلے گا کیسے؟اور دوسرا جو سب سے اہم نکتہ جو سامنے آیا کہ سٹیج سے ڈپٹی کمشنر نے دوران تقریر کہا کہ ضلعی حکومت کے دائرہ اختیار میں 12محکمے دئے گئے ہیں جبکہ ضلع ناظم کے آفس کے بقول یہ محکمے12نہیں بلکہ 14ہیں اور پھر ذرائع کے مطابق اب معلوم ہوا ہے کہ یہ محکمے 14بھی نہیں بلکہ22ہیں جن میں پولیس،ایریگیشن،ایکسائز،جنگلات،وائلڈ لائف اور لیبر جیسے محکمے ضلعی حکومتوں کو نہیں دئیے گئے صحت کا محکمہ بھی ادھورہ دیا گیا ہے جس میں ڈسٹرکٹ یا ڈویژنل ہسپتال ضلعی حکومت کی قلمرو میں نہیں آتا لیاقت ہسپتال،آر ایچ سی اور بی ایچ یوز ضلعی حکومت کے دائرہ اختیار میں دئیے گئے ہیں تعلیم کے شعبے میں بھی ڈنڈی ماری کی گئی ہے اور پرائمری سے میٹرک کا اختیار ضلع کے پاس ہے جبکہ ہائر سیکنڈری صوبائی حکومت نے اپنے پاس رکھا ہے زراعت،پبلک ہیلتھ،محکمہ مال،فشری اور کھیل کے محکموں کو ضلع کے پاس چھوڑا گیا ہے ان 22محکموں کی تنخواہ اور یوٹیلیٹی بلز کے لئے 3ارب روپے کا بجٹ 10ستمبر کوصوبائی حکومت نے بنا کر بھیج دیا ہے جبکہ ترقیاتی فنڈز کے لئے فی الحال کوئی فنڈ ریلیز نہیں ہوا ضلع کونسل میں صوبائی حکومت کا ترتیب دیا گیا تنخواہوں اور غیر ترقیاتی کاموں کا بجٹ پیش کر کے پاس کروانا ضلع ناظم مولانا نیاز کے لئے پہلا ٹیسٹ کیس ہو گا ایک اور عجیب بات یہ ہے کہ ابھی تک رولز آف بزنس کے بارے میں کسی افسر یا ناظم کو کوئی علم نہیں کہ یہ معاملات چلائے کیسے جائیں گے ؟ذرائع نے یہ انکشاف بھی کیا کہ 28اگست کو صوبائی حکومت نے بلدیاتی ایکٹ میں ایک نئی شق یہ شامل کی ہے کہ وزیر اعلیٰ کو صوابدیدی اختیار ہو گا کہ وہ کسی بھی تحصیل و ضلع ناظم کو معطل کر سکتا ہے اسکے علاوہ کوئی بھی محکمہ کسی بھی وقت ضلعی حکومت سے واپس لے سکتا ہے اس کے علاہ ایک اور حیران کن امر یہ ہے کہ مشرف کے بلدیا تی دور کے بر عکس اس نظام میں کمشنر کا عہدہ بر قرار ہے اور ساتھ میں ڈیڈک کمیٹی کا وجود بھی قائم رکھا گیا ہے بلکہ ضلع و تحصیل ناظمین ڈیڈک کمیٹی کا حصہ ہو نگے اس وقت کوہاٹ سمیت اکثر اضلاع میں ڈیڈک کمیٹی کے چیئر مین پی ٹی آئی کے ایم پی ایز ہیں تو کیا اپوزیشن کی ضلعی حکومت کے ساتھ وہ چل سکیں گے؟اس نئے ا یکٹ میں ڈپٹی کمشنر ضلعی ایڈ منسٹریٹر کے طور پر اپنی آن بان اور شان کے ساتھ محفوظ ہے جبکہ بہت سے معا ملات میں اس کے اختیارات ضلع ناظم س زیادہ ہیں اور تمام ترقیاتی فنڈز بھی ڈی سی کے اکاؤنٹ میں رہیں گے ذرائع نے یہ بھی بتا یا کہ گذشتہ برس ضلع کوہاٹ کو آّئل اینڈ گیس کی رائلٹی کی مد میں 70کروڑ روپے ملے تھے جس میں سے حلقہ پی کے39کے لئے 50فیصد اور حلقہ37اور38کے لئے 25,25فیصدحصہ تھا اب جو رائلٹی فنڈ آئے گا کیا اس میں ضلعی ممبر کا یونین کونسل وائز حصہ ہو گا یا وہی پرانا فارمولا اپنایا جائے گا ؟ضلع کونسل کے ایک حکومتی رکن نے اس تمام تر صورت حال پر تبصرا کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاید پی ٹی آئی نے ہم کو عوام سے پٹوانے کے لئے یہ نیا نظام بنایا ہے اور اب چونکہ صوبے کے 24اضلاع میں سے14کا اقتدار اپوزیشن پارٹیوں کے پاس چلا گیا ہے اور پی ٹی آئی صرف10اضلاع میں حکومتیں بنانے میں کامیاب ہوئی ہے اس طرح صوبے کی69تحصیل حکومتوں میں 40پر اپوزیشن چھا گئی ہے اور 29پی ٹی آئی کے حصے میں آئی ہیں یہی وجہ ہے کہ صوبائی حکومت ضلعی و تحصیل حکومتیں بن جانے کے بعد رولز آف بزنس طے کر رہی ہے اور اس میں اپنی سہولت کے مطابق ساتھ ساتھ ترامیم بھی کر رہی ہے اگر ہمیں ترقیاتی فنڈ نہ ملے تو گلی محلے کے عوام ہمارے گلے پڑ جائیں گے اور ہمارے ویلج اور نیبرہڈکونسل کے چیئر مینوں کو تو شاید مار بھی کھانی پڑے گی۔ابھی تک ناظمین اور کونسلرز کو یہ بھی نہیں پتہ کہ کیا انکو کوئی تنخواہ یا دفتر وغیرہ بھی ملے گا یا نہیں ؟ان حالات میں ہم اجتماعی استعفے دینے کے متعلق سوچ رہے ہیں اور یہ سوچ صوبے کی تمام اپوزیشن میں پائی جاتی ہے کہ آیایہ نظام عوامی ہے یا انتقامی؟

 
Share on Facebook
663 
 
مزید خبریں
پاکستان کی خوشحالی کے لیے بلاتفریق احتساب ضروری ہے، آرمی چیف *
عمر کے قوانین رائج کیئے جائیں تو پاکستان امن کا گہوارہ بن جائیگا *
کوہاٹ تحصیل کونسل نے 32کروڑ 66لاکھ کا غیر ترقیاتی بجٹ منظور کر لیا *
کوہاٹ کی بہت سی شخصیات جلد تحریک انصاف میں نظر آئیں گی، ملک اقبال *
وزیرِ اعلیٰ پرویزخٹک کو دورہ شکردرہ، کئی نئے منصوبوں کی منظوری *
لوکل گورنمنٹ کا مقصد عوام کو نچلی سطح پر با اختیار بنانا ہے،کمشنر کوہاٹ *
ری سئیکلنگ پلانٹ ہر صورت میں وقت پر بنے گا ،MPAضیاء بنگش *
اساتذہ ، والدین اور ایجوکیشن آفیسرز فرائض میں غفلت نہ برتیں، ضلع ناظم *
بھوت ملازمین کے لئے ٹی ایم اے میں کوئی جگہ نہیں،چیف میونسپل آفیسر *
 
Kohat
Online

All Copy Rights Reserved by
www.kohatonline.com
Email: kohatonline@gmail.com

درہ آدم خیل کی خبریں لاچی کی خبریں کرک کی خبریں ہنگو کی خبریں تازہ ترين خبريں
سائنس و ٹیکنالوجی صحت کی خبریں کوہاٹ کی تاریخ تصویری خبریں کوہاٹ کی خبریں
تعلیم کی خبریں کھیلوں کی خبریں سینی گمبٹ کی خبریں کوہاٹی شاعر اور شاعری بیرون ملک سے خبریں