کوہاٹ سے 90اشتہاریوں سمیت 431جرائم پیشہ عناصر گرفتار **||****||**کوہاٹ میں خاتون سمیت تین افراد جاں بحق **||**جی پی او کوہاٹ ڈیلی ویجز ملازمین عدالتی احکامات کے باوجود تنخواہوں اورالاؤنسز سے محروم **||**سرکاری ادارے عوام کے ہاتھ میں**||**
اسپيشل رپورٹس وتجزيے
 
 
 
 
انٹرويوز
 
 
 
کالم اور کالم نگار  
منیٰ سے کربلا تک
فضل محمود عینؔ

بیس روپے فیس والا ڈاکٹر۔۔۔!
حامد نور، کوہاٹیات

 
حکمران جماعت عظیم شکست کے کنارے پر
7 August 2015, 12:31 pm PST
کوہاٹ (آن لائن سپیشل تجزیہ) ضلع کوہاٹ کے 5 پولنگ سٹیشن پر ری پولنگ ، آفریدی گروپ ایک بار پھر پی ٹی آئی سے آگے نکل گیا تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے پر شکردرہ، لاچی اور خیرماتو کے پانچ، پولنگ سٹیشن پر تیس جولائی کو ری پولنگ ہوئی جسمیں شکردرہ سے پاکستان تحریک انصاف کے ڈسٹرکٹ امیدوار محمد حسن اور تحصیل امیدوار رحمن خان، بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگئے اس طرح شکردرہ سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے صوبائی وزیر قانون امتیاز شاہد قریشی نے بلدیاتی الیکشن میں ااپنے سیاسی مخالفین کو کلین بولڈ کر دیا لاچی سے آفریدی گروپ کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار شاد منیر نے میدان مار لیا جبکہ تحصیل کی سیٹ خانزادہ فواد خان نے جیت لی سب سے اہم مقابلہ خیرماتو کی نشست پر پی ٹی آئی کے امیدوار اعظم خان ٹھیکیدار اور آفریدی گروپ، جمعیت علمائے اسلام کے مشترکہ حمایت یافتہ آزاد امیدوار اشراق الرحمان کے مابین ہوا جو ھسب توقع آفریدی گروپ کے امیدوار اشراق نے 36 ووٹ سے جیت لیا اور اس کے ساتھ تحصیل کی نشست بھی اسی گروپ کے حمایت یافتہ امیدوار افضل خان نے جیت لی پی ٹی آئی کی یہ نشست آفریدی گروپ کی علاقے میں دھاک کیلئے بہت ضروری تھی اعظم خان ٹھیکیدار کے حامی احتجاج کرتے رہ گئے اور انتظامیہ والیکشن کمیشن نے فوری طور پر آفریدی گروپ کے اشراق کی کامیابی کا نوٹیفیکشن جاری کردیا تیسرے دن لاچی کے شاد منیر، خیرماتو کے اشراق اور تحصیل کو نسلر افضل خان نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اور ضلعی نظامت کے امیدوار بابر عظیم کی حمایت کا ایک پریس کانفرنس میں باقاعدہ اعلان کردیا دلچسپ امر یہ ہے کہ بابر عظیم اب تک آزاد ہے انہوں نے کوئی پارتی جائن نہیں کی ان کے دادا شمیم آفریدی بلوچستان کی جمہوری وطن پارٹی سے متاثر ہیں اور یہاں آزاد حیثیت میں اپنی سیاست کرتے ہیں۔بابر کے والد امجد آفریدی پی ٹی آئی کی موجودہ صوبائی حکومت میں وزیر کھیل وسیاحت ہیں ان کے چچا عباس آفریدی سابقہ سینیٹر اور وفاقی وزارت سے مارچ میں ہی فارغ ہوئے ہیں اور اب وہ مسلم لیگ میں ہیں بلکہ بابر اگر عظیم بن گیا تو وزیر اعظم نواز شریف کے دورہ کوہاٹ کے بعد عباس آفریدی باقاعدہ مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کریں گے اور اور بعد میں وفاقی وزارت یامشاورت ان کو مل سکتی ہے بابر عظیم کو آزاد اس لئے رکھا گیا ہے کہ تحریک انصاف کامنہ بھی بند رہے کیونکہ امجد آفریدی کی ڈبل گیم کی وجہ سے سی ایم ہاؤس اور بنی گالا سے بھی کوئی پریشر آسکتا ہے (جو ابھی تک نہیں آیا) اس ہائی رسک کی وجہ سے وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی کی سیٹ خطرے میں پڑ سکتی ہے ذرائع کے مطابق آفریدی گروپ ضلعی حکومت بنا لے گا جو یقیناً صوبائی حکمران پارٹی کیلئے ایک بڑی سیاسی شکست سمجھی جائے گی اور اس سے ضلعی سطح پر پارٹی کا شیرازہ بکھرنے کا بھی خدشہ ہے جس کے آثار حالیہ بلدیاتی الیکشن میں نمایاں ہوکر سامنے آئے ہیں اور ابھی ری پولنگ کے بعد اس انتشار میں مزید شدت آ رہی ہے اور پی ٹی آئی کا ایک مضبوط گروپ امجد آفریدی کا طواف کرنے ، بقی کی سوچ رہا ہے خیرماتو کی نشست پر جمعیت کے ساتھ مل کر آفریدی گروپ نے بھرپور ہوم ورک کیا تھا پیسے اور پلاننگ کے ساتھ ساتھ آفریدی گروپ کو علاقے کیلئے سابقہ دور میں گیس اور بجلی کی سہولیات فراہم کرنے کی وجہ سے بھی پذیرائی ملی جبکہ پاکستان تحریک انصاف میں اندرونی ہم آہنگی اور درست پلانگ نہ ہونے کی وجہ سے سے ایم این اے شہریار آفریدی اسلام آباد میں بیٹھے رہے ایم پی اے ضیاء اللہ بنگش اور دیگر سونامی کارکنان بھی زیادہ متحرک نظر نہیں آئے بلکہ بعض ذرائع کے مطابق امجد آفریدی کی طرف سے ضیاء اللہ کے چچا کو تحصیل کونسل میں اہم سیٹ دینے کی بات ہوچکی ہے اسلئے امجد آفریدی گروپ کی سیاسی چالوں کا توڑ فی الحال ضلع میں کسی سیاسی پارٹی کے پاس نہیں، ابھی تک آفریدی گروپ کی چالاک سیاست کے نتیجے میں حلقہ پی کے 37 سے نوابزادہ ظفر خان۔ الحاج غلام حبیب ٹھیکیدار، ہدایت اللہ آفریدی بابری بانڈہ کے الطاف آفریدی وغیرہ کاصفایا کر دیا ہے اور پی ٹی آئی کے مقابلے میں ایک متوازی حیثیت حاصل کرتی ہے بلکہ بعض مبصرین کے مطابق تحریک انصاف ضلع بھر میں اکلوتی اکثریتی جماعت بن کر ابھری ہے تو آفریدی گروپ نے بھی اپنا ہدف 99 فی صد حاصل کیا ہے اسی طرح مسلم لیگ کی وجہ سے آفریدی گروپ کے اپنے دیرینہ حریف ملک اسد کے ساتھ بھی مراسم بہتر ہوگئے ہیں جبکہ گوہر سیف اللہ کیلئے آفریدی گروپ نے راستہ بند کردیا ہے۔ قارئین اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امجد آفریدی نے بلدیاتی الیکشن میں اپنے آزاد گروپ کی کامیابی کے بعدان لوگوں کو تحریک انصاف میں شامل کیوں نہیں کروایا تاکہ تحریک انصاف اور آزاد اراکین مل کر بغیر جے یو آئی کے اپنی حکومت بنالیتے اسکا جواب یہ ہے کہ ایک تو امجد آفریدی کے اپنے بیٹے بابر عظیم کو ضلعی نظامت نہ دینے کا خدشہ پی ٹی آئی کی جانب سے نظر آرہا تھا اور دوسری طرف ان کے بھائی عباس آفریدی اقتدار سے باہر ہونے کے بعد سیاسی طور پر فارغ تھے اسلئے انھیں بھی ایڈ جسٹ کرنا تھا اور یہ اسی صورت میں ممکن تھا کہ سب سیاسی پارٹیوں کو لپیٹ لیا جائے چونکہ عباس آفریدی کا سینیٹری کے دور میں آخری سیاسی پڑاؤ مسلم لیگ ن میں رہا اور وہ پارٹی مرکز میں اقتدار میں بھی ہے اسی لئے انہوں نے ضلعی سطح پر مسلم لیگ کوجائن اور فعال کرنے کا فیصلہ کیا اور ضلع کوہاٹ میں صرف ایک ضلعی اور ایک تحصیل نشست جیتنے والی مسلم لیگ (ن) کے ضلعی سطح پر مردہ گھوڑے میں جان ڈال دی اور اس کو وکٹر ی سٹینڈ پر لا کھڑا کیا دوسری طرف ان کے والد شمیم آفریدی نے جمعیت علمائے اسلام کو ساتھ ملا کر اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم کرلی اور مستقبل کیلئے اپنے خاندان میں سے قومی اسمبلی کی جیت کیلئے روڈ میپ بنالیا یاد رہے کہ 2008 کے انتخابات میں بھی جمعیت کے امیدوار مولانا مجیب کو انہوں نے کامیابی سے بٹھا دیا تھا جس سے امجد آفریدی پہلی بار جیت گئے تھے۔اور آج پورے ضلع میں ان کی سیاست کا اثر پھیل رہا ہے اب صورتحال یہ ہے کہ ایک ہی حجرے میں دادا جمعیت کا حامی ‘ بیٹا امجد‘ پی ٹی کا خصوصی مشیر دوسرا بیٹا عباس آفریدی مسلم لیگ ن میں اور ضلعی نظامت کا امیدوار پوتا بابر عظیم فی الحال آزاد حیثیت میں ہے اس کامیاب سیاست کی وجہ یہ ہے کہ اس خاندان کے پاس مالی وسائل وافر مقدار میں موجود ہیں دوسرا 2013 کے الیکشن میں شمیم آفریدی کی قومی اسمبلی کی اور پی کے 38 کی صوبائی نشست پر امجد آفریدی کی شکست اور پھر بعد میں اسی سال مارچ میں عباس آفریدی کی شکست نے آفریدی خاندان کو بہت کچھ سیکھادیا ہے اور ایک سیاسی حقیقت یہ بھی ہے کہ ان لوگوں نے بہت کم وقت میں اپنے حلقے سمیت کوہاٹ میں گیس اور بجلی کے منصوبہ جات میں جو ترقیاتی کام کرایا ہے ان کو اسکا تھوڑا بہت فائدہ بہر حال مل رہا ہے اور ملے گا ایک کوہاٹی تبصرہ نگار لائق میر کے مطابق آفریدی خاندان اب پاکستان کے پانچ سو بااثر خاندانوں میں شمار ہونے لگا ہے بہرحال اگر پاکستان تحریک انصاف نے اپنی سیاسی خامیوں پر قابو نہ پایا عوامی فلاح کے منصوبہ جات بروقت مکمل نہ کئے اور اپنی صفوں سے انتشار ختم نہ کیا تو ضلعی نظامت سمیت یہ مستقبل کی سیاست بھی ہار جائیں گے۔اس موجودہ سیاسی منظر نامے میں آفریدی گروپ کو شکست دینے کی ایک ہی صورت بن سکتی ہے کہ ان کے تمام سیاسی مخالفین اکٹھے ہوجائیں اور ضلع و تحصیل میں اکثریت رکھنے والی پارٹیاں اپنے اختلافات بالائے طاق رکھ کر اپنے اقتدار اور صفار کی قربانی دیں تو آفریدی گروپ کرسی کے قریب پہنچ کر بھی اقتدار سے باہر ہو سکتاہے اور یہ کوہاٹ کی تاریخ میں پہلے بھی ہوتا رہاہے۔

 
Share on Facebook
695 
 
مزید خبریں
پاکستان کی خوشحالی کے لیے بلاتفریق احتساب ضروری ہے، آرمی چیف *
عمر کے قوانین رائج کیئے جائیں تو پاکستان امن کا گہوارہ بن جائیگا *
کوہاٹ تحصیل کونسل نے 32کروڑ 66لاکھ کا غیر ترقیاتی بجٹ منظور کر لیا *
کوہاٹ کی بہت سی شخصیات جلد تحریک انصاف میں نظر آئیں گی، ملک اقبال *
وزیرِ اعلیٰ پرویزخٹک کو دورہ شکردرہ، کئی نئے منصوبوں کی منظوری *
لوکل گورنمنٹ کا مقصد عوام کو نچلی سطح پر با اختیار بنانا ہے،کمشنر کوہاٹ *
ری سئیکلنگ پلانٹ ہر صورت میں وقت پر بنے گا ،MPAضیاء بنگش *
اساتذہ ، والدین اور ایجوکیشن آفیسرز فرائض میں غفلت نہ برتیں، ضلع ناظم *
بھوت ملازمین کے لئے ٹی ایم اے میں کوئی جگہ نہیں،چیف میونسپل آفیسر *
 
Kohat
Online

All Copy Rights Reserved by
www.kohatonline.com
Email: kohatonline@gmail.com

درہ آدم خیل کی خبریں لاچی کی خبریں کرک کی خبریں ہنگو کی خبریں تازہ ترين خبريں
سائنس و ٹیکنالوجی صحت کی خبریں کوہاٹ کی تاریخ تصویری خبریں کوہاٹ کی خبریں
تعلیم کی خبریں کھیلوں کی خبریں سینی گمبٹ کی خبریں کوہاٹی شاعر اور شاعری بیرون ملک سے خبریں