کوہاٹ سے 90اشتہاریوں سمیت 431جرائم پیشہ عناصر گرفتار **||****||**کوہاٹ میں خاتون سمیت تین افراد جاں بحق **||**جی پی او کوہاٹ ڈیلی ویجز ملازمین عدالتی احکامات کے باوجود تنخواہوں اورالاؤنسز سے محروم **||**سرکاری ادارے عوام کے ہاتھ میں**||**
اسپيشل رپورٹس وتجزيے
 
انٹرويوز
 
مزید خبریں
پاکستان کی خوشحالی کے لیے بلاتفریق احتساب ضروری ہے، آرمی چیف *
عمر کے قوانین رائج کیئے جائیں تو پاکستان امن کا گہوارہ بن جائیگا *
کوہاٹ تحصیل کونسل نے 32کروڑ 66لاکھ کا غیر ترقیاتی بجٹ منظور کر لیا *
کوہاٹ کی بہت سی شخصیات جلد تحریک انصاف میں نظر آئیں گی، ملک اقبال *
وزیرِ اعلیٰ پرویزخٹک کو دورہ شکردرہ، کئی نئے منصوبوں کی منظوری *
لوکل گورنمنٹ کا مقصد عوام کو نچلی سطح پر با اختیار بنانا ہے،کمشنر کوہاٹ *
ری سئیکلنگ پلانٹ ہر صورت میں وقت پر بنے گا ،MPAضیاء بنگش *
اساتذہ ، والدین اور ایجوکیشن آفیسرز فرائض میں غفلت نہ برتیں، ضلع ناظم *
بھوت ملازمین کے لئے ٹی ایم اے میں کوئی جگہ نہیں،چیف میونسپل آفیسر *
 
کالم اور کالم نگار  
منیٰ سے کربلا تک
فضل محمود عینؔ

بیس روپے فیس والا ڈاکٹر۔۔۔!
حامد نور، کوہاٹیات

 
Share on Facebook بیس روپے فیس والا ڈاکٹر۔۔۔!
حامد نور، کوہاٹیات
-   ,   -
2015-09-18
ایک رشتہ طے ہو رہا تھا،لڑکی والوں نے سوال کیا کہ آپ کا لڑکا کیا کررہا ہے، جواب تھا، ہمارے لڑکے نے آپکی لڑکی کی وجہ سے ہماری ناک میں دم کر رکھا ہے،لڑکی کے والدین نے مسکرا کر کہا کہ بہت ہی’’نسواں شناس‘‘ بچہ ہے،ہماری لڑکی بھی بہت سگھڑ ہے، صرف 30روپے میں 100ایس ایم ایس کرتی ہے،یہ سیاسی لطیفہ تھا، جسے سیاست آشنا بیان کررہے تھے۔ اب تو ناک میں دم جمعیت کے اس مولوی کا کیا جائے گا۔جس کو بہت سی قوتوں نے مل کر ضلعی ناظم بنایا ہے، تاکہ کرپشن میں اگر پکڑا جائے تو بے چارہ غریب مولوی اور ہم یونہی چھوٹ جائیں ، اب ہمارے ضلعی ناظم کو یہ قوتیں ’’بچہ جمہورا‘‘ بنا کر چھوڑ یں گی۔ اخباری بیان بھی ان مخفی قوتوں کی اجازت کے بغیر جاری نہیں کیا جاسکے گا، یعنی با ا لفاظ دیگر ہمارے مولانا افغان صدر بنادئیے گئے ہیں، جن سے جب بھی چاہا پاکستانی مخالف بیان دلوادیا جاتا ہے، کچھ مدت کے بعد مولانا ان سیاسی بزرجمہروں سے جان چھڑانے کی بہت کوشش کریں گے مگر بقول شاعر’’ محبت بھی ضروری تھی، بچھڑنا بھی ضروری تھا‘‘ والا معاملہ ہوگا۔ ہمارے پیارے ڈاکٹر مطیع اللہ کا اخباری بیاں نظروں سے گذار ہے وہ گلہ کررہے تھے، کہ ضلعی ناظم کیلئے میں زیادہ موزوں تھا، مگر افسوس سیاست سے نابلد ایک مولانا کو ناظم بنا دیا گیا، ہمارے ڈاکڑ صاحب کی ساری عمر ہی گلے شکوؤں میں گزری ہے، بچپن میں جب ان کے والد سب بہن بھائیوں میں کوئی کھانے کی چیز تقسیم کرتے تھے تو مطیع اللہ کو والد سے شکایت ہوتی تھی کہ مجھے کم دیا گیا ہے،خود سے گلہ ہے کہ مجھے سیاست میں وہ مقام نہیں دیا گیا ، جس کا میں اہل تھا، اور تو اور ڈاکٹر صاحب کو یہ بھی گلہ تھا کہ قبل ازوقت بوڑھا ہوگیا ہوں، انہی کے جگری دوست جاوید نور نے تحصیل ناظم کا الیکشن اپنے اردگرد موجود سیاسی ٹھگوں کے باعث چند ووٹوں سے ہارا۔۔۔۔!ان کو بھی گلہ ہے کہ مجھے دوستوں سے بچاؤ ۔ ظاہر ہے کہ جب آدمی چھوٹے لڑکوں کو’’ دوست ‘‘بنائے تو ایسے ہی نتائج برآمد ہوتے ہیں ، یہ کوہاٹ ہے بنوں نہیں۔۔۔! نومنتخب تحصیل ناظم ملک تیمور خان نے اپنے پہلے بیان میں ٹی ایم اے کو معاشی طور پر مضبو ط بنانے کا عزم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کام چوروں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔بھوت ملازم برداشت نہیں کئے جائیں گے، ہم لوگ بھوت برداشت نہیں کرتے ہیں تو بھوت ملازم کیسے برداشت کریں گے؟ ملک صاحب کی معلومات کیلئے گذارش ہے کہ اگر سرکاری افسران کے بنگلوں میں سالہاسال سے کام کرنے والے ملازم ہی واپس لائے جائیں تو شاید کوہاٹ میں صفائی کا بندبست درست ہو سکے، ٹی ایم اے انتظامیہ کا کوہاٹ کی صفائی سے مراد سرکاری افسران کے بنگلوں اور اردگرد کی جگہوں سے ہے،یہی وہ بھوت ملازم ہیں جوکہ سارا مہینہ بیگمات کے بیٹ مین کا کردار ادا کرتے ہیں، اور یکم کو تنخواہ لینے کیلئے ، ٹی ایم اے پہنچ جاتے ہیں، یہ ملازمین عوام کے بجائے افسر وں کی بھلائی میں سارا سال مصروف رہتے ہیں ، دوسری طرف عوام کا یہ حال ہے کہ گھر کے آگے کوڑا کرکٹ پڑا ہے تو بجائے اسکو ٹھکانے لگانے کے اخبار میں بیان جاری کر دیتے ہیں، میاں خیل بازار سے گندگی ہٹانے کا فوری بندوبست کیا جائے ورنہ ہم راست اقدام پر مجبور ہونگے، اب ظاہر ہے کہ اس گند کو اٹھانے کیلئے ایم این اے، ایم پی اے، سینٹیر ، یا کوئی وزیر تو نہیں آئیگا، اس کو ہم نے خود اٹھانا ہے، میں نے ایک بہت ہی ہوشیار صاحب کو بتایا ، قائد اعظم کا فرمان ہے کہ کام کام اور بس صرف کام سے بھی کام کی اہمیت کا اندزہ ہوتا ہے، بہت ہی معصومیت سے کہنے لگے ، قائد نے کام کا تو کہا ہے مگر یہ نہیں کہا کہ کونسا کام؟ اسی لئے چاہئے کہ کام کا پتہ لگانے کیلئے ملک تیمور سے پوچھیں، تبلیغ کے ساتھ چار ماہ لگائیں یا پھر زندہ پیر گھمکول شریف کے ہاں چلہ کاٹیں، ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے ، باپ ملک سے باہر محنت مزدوری کیلئے گئے ہوئے ہیں، بچے ماؤں کے حوالے ہیں،جب بھی ان بچوں کو کسی کام کا کہیں تو مائیں آگے سے جواب دیتی ہیں، میرا لعل تھکا ہوا ہے یہ بچے ساری ساری رات جاگتے ہیں اور دن کو سوتے ہیں، ان کو ٹھیک کرنے کیلئے انہیں سہیل شنواری المعروف امیر صاحب اقراء روضتہ اطفال والے کے حوالے کیا جائے، اگر بچے چند دن میں ٹھیک نہ ہوئے تو پیسے واپس۔۔۔۔۔۔! کہتے ہیں دنیا کا نظام خدا ترسوں پر چل رہا ہے، انہی خداترسوں میں ہمارے ہاں ایک ڈاکٹر بھی ہیں، جنہیں ان کی ماں نے وصیت کی تھی کہ بیٹا فیس صرف 20روپے لینا، جب یہ وصیت کی گئی تھی تو یہ صرف 20روپے بھی زیادہ تھے، مگر یہ نیک دل ڈاکٹر آج تک اپنی ماں کی نصیحت پر عمل پریا ہے، مریضوں سے صرف 20 روپے فیس وصول کرتا ہے، البتہ نمبر حاصل کرنے کیلئے 50روپے رشوت دینی پڑتی ہے، مگر پھر بھی غریبوں کو اس مہنگائی کے دور میں یہ مسیحا سستا پڑتا ہے، یہ سلسلہ پچھلے دو عشروں سے جاری ہے کہ اچانک نیک دل ڈاکٹر کی والدہ کی وصیت کا دوسرا حصہ منظر عام پر آگیا، اس میں درج تھا کہ بیٹا جب مریضوں کی زیادتی ہو جائے تو اپنی لیبارٹری اور ادویات کی دکان بھی بنا لینا، کسی مریض کو ٹیسٹ کے بغیر اور اپنی دکان کے بغیر دوائی نہ دینا، دوا کیلئے کسی ایسی کمپنی سے رجوع کرنا جوکہ تمہاری دکان کے علاوہ کسی کو بھی دوا فراہم نہ کرے، اور اگر ہوسکے تو اپنا دواؤں کا کارخانہ بنانا، تاکہ تمہاری اور میری عاقبت سنورسکے اب صورت حال یہ ہے کہ رشوت اور فیس کے 70روپے میں تو صرف’’ قلعہ ‘‘آتا ہے، بھینس بعد میں لینی پڑتی ہے، لیبارٹری ٹیسٹ 2ہزار روپے ہوتے ہیں، اور ادویات بھی دو ہی ہزار میں آتی ہیں ، ڈاکٹر صاحب کی والدہ اگلے جہاں میں بھی خوش ہونگی کہ میرے بیٹے نے میرے وصیت پر پورا پورا عمل کیا ہے۔اور اپنی دین اور دنیا سنوار رہا ہے، اب اندیشہ یہ ہے کہ کہیں ڈاکٹر صاحب کی والدہ کی وصیت کا تیسرا حصہ منظر عام پر نہ آجائے اور ڈاکٹر صاحب دیکھتے ہی دیکھتے سرجن نہ بن جائیں اور مریضوں کے آپریشن نہ شروع کردیں، کوہاٹ میں ایک سرجن نے بھی بہت نام کمایا ہے، بازار میں گھومتے ہوئے کسی شخص کے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر بتاتے ہیں کہ فوراََ ہسپتال پہنچو تمہارا پتہ پھٹنے والا ہے اور پھر اگلے گھنٹے میں مریض ایک خطیر رقم اور اپنا’’ پتہ‘‘ ڈاکٹر صاحب کے آپریشن تھیٹر میں چھوڑ کر آجاتا ہے اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوہاٹ کو ایسے ایسے علمِ نجوم کے ماہر سرجن عطا کئے ہیں ، جن کی جتنی بھی قدر کی جائے تو کم ہے، نجوم کے ماہر سرجن کو دس سال بعد آنے والی پیچید گیوں سے بھی آگاہ کرتا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ ہم کوہاٹیوں پر نجومی سرجن اور چارہزار ستر روپے والے خدا ترس ڈاکٹر کا سایہ ہمیشہ قائم رکھے، ورنہ ہماری صحتوں کو ہمیشہ خطرہ رہے گا۔
844 
-

Today: December 12, 2017 

 
 
 
Kohat
Online

All Copy Rights Reserved by
www.kohatonline.com
Email: kohatonline@gmail.com

درہ آدم خیل کی خبریں لاچی کی خبریں کرک کی خبریں ہنگو کی خبریں تازہ ترين خبريں
سائنس و ٹیکنالوجی صحت کی خبریں کوہاٹ کی تاریخ تصویری خبریں کوہاٹ کی خبریں
تعلیم کی خبریں کھیلوں کی خبریں سینی گمبٹ کی خبریں کوہاٹی شاعر اور شاعری بیرون ملک سے خبریں